❥ Sawaal: *السلام علیکم*_ورحمۃ اللّٰه وبرکاته_
علماء حضرات قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے هیں..
*جب والد صاحب کا انتقال هوا انکی ملکیت میں ایک گهر تها* جو اسوقت همارے زیرِ استعمال تها اسکا ایک پورشن کرایه پر دیا هوا تها اس کرایه میں سے چهٹا حصه هماری *دادی* کو دیا جاتا تها *والد کے انتقال کے چھ ماه بعد دادی کا بهی انتقال هوگیا* اب پانچ سال بعد هم اپنا گهر فروخت کرنا چاهتے هیں *معلوم یه کرنا هے که اسمیں دادی کا حصه نکلے گا یا نهیں* اور اگر حصه نکلے گا تو کسطرح تقسیم هوگا..
دوسرا مسئله یه هے..
والد صاحب نے اپنی زندگی میں زبانی وصیت کررکهی تهی که تم لوگوں کی جب تک والده زنده هیں یه گهر فروخت مت کرنا اور اسکا جو کرایه هے وه تملوگوں کی والده کا هوگا.. *معلوم یه کرنا هے که زبانی وصیت کی کیا حیثیت هے ؟* اور اگر هے تو هم اپنی والده کی اجازت سے گهر فروخت کررهے هیں *اسطرح والده کی مرضی سے گهر فروخت کرسکتے هیں یا نهیں؟*
براه مهربانی رهنمائی فرمائیں.. *جزاک اللّٰه*
°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°
☑ Sawaal isbotse @masaail_bot ya islinkse Islamiguide.com/ask-a-question se karsakte hain.
Sawaalat ke jawaabat
Niche Diyegaye Sawaalat ke jawaabat is Telegram Channel https://telegram.me/masaail me dekhsakte hain



0 comments:
Post a Comment